6 ستمبر 2013 - 19:30
گروپ بیس میں گہرا اختلاف

اگرچہ روس کےشہرسن پیٹرزبرگ میں گروپ بیس کےدوروزہ سربراہی اجلاس کااصلی ایجنڈہ ، اقتصادی موضوع تھا لیکن شام کےبارے میں عالمی حساسیت کے باعث سربراہوں کےدرمیان شام کامسئلہ کافی دیرتک موضوع بحث بنارہا ۔

ابنا: ایسانظرآتا ہے کہ یہ اجلاس، شام کے کیمیاوی ہتھیاروں سے نمٹنے کے بارے میں روس اور امریکہ کےدرمیان اہم ترین علاقائی تنازعہ کا میدان بن کر رہ گیا۔ اس اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں بھی شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر ردعمل کے بارے میں بھی اختلاف نظر دکھائی دیا اورگروپ بیس واضح طور پر دودھڑوں میں تقسیم ہوگیا۔اس اجلاس کےاختتام پر اسپین اورگروپ بیس کے گیارہ اراکین نے ایک بیان میں شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا بھرپور جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، اٹلی،اسپین، جنوبی کوریا،ترکی، کینیڈا، اورسعودی عرب نے اس بیان پردستخط کئے۔اسپین کےعلاوہ اس بیان پردستخط کرنےوالےتمام افراد کاتعلق گروپ بیس سے ہے۔ان ممالک نے اعلان کیا کہ وہ سلامتی کونسل کےاقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں لیکن دنیا تاابد اس کا انتظارنہيں کرسکتی ۔امریکی صدر باراک اوبامہ نے اس اجلاس کےبعد ایک پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک ، ایشیاء اورمشرق وسطی کےسربراہان مملکت، حکومت شام کےہاتھوں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتے ہيں اور اس کا بھر پورجواب دینے کامطالبہ کر رہے ہیں۔ اوبامہ نےایک بار پھر حکومت شام کےخلاف محدود پیمانے پرفوجی اقدام پرزور دیا۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ شام پرفوجی حملےکےمخالفین نےروس کی سربراہی میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے برخلاف موقف اختیار کیا۔روس،چین ،ہندوستان،انڈونیشیاء،ارجنٹائن، جنوبی افریقہ، اٹلی، برازیل اور شمالی کوریا نے اس طرح کے اقدام کی مخالفت کی ہے۔روسی صدر پوتین نے کہا کہ اس اجلاس کےاکثرشرکاء شام پرفوجی کاروائی کےخلاف ہیں اور مذاکرات کےدوران صرف ، امریکہ فرانس کینیڈاسعودی عرب اورترکی ہی سلامتی کونسل کی اجازت کےبغیر فوجی حملے کےحق میں تھے۔روسی صدر نےکہاکہ کسی طرح کافوجی اقدام بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔پوتین نے کہا کہ اگر حملہ ہوا تو ماسکو دمشق کی مدد کرےگا۔انھوں نے ایک بار پھرخبردارکیا کہ سلامتی کونسل کی اجازت کےبغیر شام پرکسی طرح کاحملہ غیرقانونی ہوگا۔واضح رہے کہ اس وقت امریکہ اور روس کےتعلقات کئی مسائل کی بنا پرکشیدگی کاشکار ہيں اوراس میں شام کامسئلہ سب سےاہم ہے۔درحقیقت امریکہ اور روس کے موقف میں واضح تضاد کےپیش نظراب پوری طرح واضح ہوچکا ہےکہ شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کےاستعمال کےسلسلے میں دونوں ملکوں کاموقف پوری طرح مختلف ہے۔ان دونوں کےدرمیان اختلاف نظراتناگہرا ہے کہ سفارتی تکلفات بھی اس کی گہرائي کو نہ چھپا سکے اور پوتین و اوبامہ کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کے باوجود اختلاف نظر پوری طرح برقرارہے جبکہ اس بیچ روسی پارلیمنٹ ڈوما نے امریکی کانگریس کےساتھ اپنےتعلقات معلق کردیئے ہیں جبکہ شام کےمسئلے میں گروپ بیس کا دودھڑوں میں تقسیم ہونااس بات کاعکاس ہے کہ امریکہ شام پرحملےکےسلسلے میں عالمی اتفاق رائے  پیدا کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کےشام پرفوجی حملےکےحق میں ووٹنگ کے مدنظر یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ اوبامہ شام پرحملےکے لئے اسپین سمیت دس ملکوں کی حمایت کوجواز بنا سکتے ہيں۔......./169